ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گجرات میں ہاری ہوئی 25اور ہماچل میں0 1سیٹیں مانگی تھی، نہیں ملیں:مایاوتی

گجرات میں ہاری ہوئی 25اور ہماچل میں0 1سیٹیں مانگی تھی، نہیں ملیں:مایاوتی

Fri, 17 Nov 2017 00:00:15    S.O. News Service

لکھنؤ،16؍نومبر (ایس اونیوز؍ آئی این ایس انڈیا )لوک سبھا اور اسمبلیوں کا الیکشن سیکولر پارٹیوں کے ساتھ مل کر لڑنے کی بات پر بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے آج کہا کہ ان کی پارٹی کبھی اس کے خلاف نہیں رہی ہے، لیکن کسی بھی سیکولر پارٹی کے ساتھ ہم اتحاد قابل احترام سیٹ ملنے پر ہی کریں گے، ورنہ پارٹی اکیلے ہی الیکشن لڑے گی۔بی ایس پی سپریمو نے کہا کہ سیکولر جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے سلسلے میں پارٹی کے پرانے اور موجودہ دونوں ہی تجربہ کافی خراب رہے ہیں۔پارٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فی الحال گجرات اسمبلی میں 182سیٹیں ہیں، انتخابی اتحاد کے تحت بی ایس پی نے کانگریس کی ہاری ہوئی 25سیٹیں اپنے لئے مانگی، لیکن انہیں یہ بات ناگوار گزری۔اسی طرح ہماچل پردیش کی کل 68 سیٹوں میں سے پارٹی نے کانگریس سے اس کی ہاری ہوئی سیٹوں میں سے 10مانگی، لیکن انہوں نے اس میں بھی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔مایاوتی نے اترپردیش میں تین مراحل میں ہو رہے بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے آج پارٹی عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کی۔انہوں نے کہا کہ بی ایس پی سب سے پہلے اپنے انتخابی نشان پر بلدیاتی الیکشن لڑ رہی ہے۔پارٹی نے میئر، کونسلر، میونسپلٹی اور نگر پنچایت کے صدر اور ارکان کے لئے اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔پارٹی کے کسی کارکن کو آزاد الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ جہاں تک بات بی جے پی یا فرقہ وارانہ جماعتوں کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے سیکولر اتحاد بنانے کی ہے، ہماری پارٹی اس کے خلاف نہیں ہے۔ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔لیکن ہماری پارٹی کسی بھی سیکولر پارٹی کے ساتھ اتحاد کرکے الیکشن اسی شرط پر لڑے گی کہ تقسیم کے دوران قابل احترام تعداد میں سیٹیں دی جائیں۔ایسا نہیں ہونے پر ہم اکیلے الیکشن لڑنا بہتر سمجھتے ہیں۔مایاوتی نے کہا کہ انہی ہدایات کے تحت پارٹی لیڈر ایس سی مشرا نے اتحاد کے سلسلے میں کانگریس لیڈر سونیا گاندھی کے خاص مشیر احمد پٹیل سے تفصیل سے بات کی تھی۔انہوں نے بات چیت کی معلومات غلام نبی آزاد کو بھی دے دی تھی، لیکن اس بات چیت سے ناخوش ہوکر مشرا نے مجھ سے اتحاد کی وکالت کرنا تقریبا بند ہی کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں مشرا سماجوادی پارٹی کے رویہ سے بھی بہت زیادہ غمگین ہیں۔ہماری پارٹی نے اتر پردیش میں 1993 میں ایس پی کے ساتھ اور 1996میں کانگریس کے ساتھ اتحاد میں لڑا، لیکن تجربہ اچھا نہیں رہا۔بی ایس پی سپریمو نے کہا کہ اتحاد سے ان دونوں جماعتوں کو فائدہ ہوا، لیکن ہمیں نقصان ہوا ۔ہمارا ووٹ فیصد بھی کم ہو گیاانہوں نے کہا کہ پرانے تجربات کی بنیاد پر لگتا ہے کہ پارٹی کے لئے اکیلے انتخاب لڑنا ہی بہتر انتخاب ہے۔


Share: